کوئی زمانہ تھا کہ اسلام وقت سے بھی دو قدم آگے ھوتا تھا، اس کے مخالف الزام لگاتے تھے کہ یہ وہ بات کہتے ھیں جو ھمارے باپ دادا نے بھی نہیں سنی،پھر زمانہ بڑے شوق سے سن رھا تھا،ھم ھی سو گئے داستاں کہتے کہتے